﷽
خواہش، تمنّا اور تسلیم
( ڈاکٹر اظہر وحید )
میانوالی سے ظافر اقبال صاحب نے ایک سوال ارسال کیا ہے۔ لکھتے ہیں کہ حضرت واصف علی واصفؒ نے ایک جگہ فرمایا ہے: Surrender all your desires to Allah ( اپنی تمام خواہشات اللہ کے تابع کر دو) اور ایک جگہ کہتے ہیں کہ انسان کی زندگی میں کوئی مقصد ضرور ہونا چاہیے، زندگی میں کوئی purpose دریافت کرنا چاہیے— اب میرا سوال یہ ہے کہ زندگی کا مقصد دریافت کرنا بھی ایک خواہش ہے ، تو کیا یہ خواہش بھی ترک کر دینی چاہیے؟
یہ بہت عمدہ ، فکری نوعیت کا سوال ہے ۔ سوال سے زیادہ یہ ایک پیراڈاکس paradox ہے۔ ایک جہت سے یہ ایک منطقی پیراڈوکس کا شکار ہے اور دوسری جہت سے ایک فکری اشکال اسے لاحق ہیں۔ منطقی اشکال اس میں یہ ہے کہ ہم بھول جاتے ہیں کہ جہاں سے حکم آتا ہے، وہاں یہ نافذ نہیں ہوتا۔ اگر محبوب کہے کہ سب کو چھوڑ دو، تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ محبوب کو بھی چھوڑ دیا جائے۔ اب آتے ہیں فکری اشکال کی طرف۔ دراصل ہم خواہش اور تمنا میں فرق نہیں کر رہے۔ اگر خواہش اور تمنا میں فرق جان لیں تو یہ اشکال (پیراڈاکس) خود بخود حل ہو جاتا ہے۔ خواہش مادی ہوتی ہے، Tangible ہوتی ہے، اس کا تعلق عالمِ محسوسات سے ہے — او ر سب سے بڑھ کر یہ کہ خواہش کا تعلق براہِ راست ہمارے نفس سے ہے۔ خواہش نفس میں ابھرتی ہے، اسی لیے اسے مکمل طور پر “خواہشِ نفس” یا” ہوائے نفس” کہا جاتا ہے۔ خواہش ِ نفس کا میدان مادے کی دنیا ہے، یعنی فنا کی دنیا ہے۔ اس کے برعکس تمنا کا تعلق ہمارے قلب سے ہے۔ تمنا ہماری روح کی دھڑکن ہے۔ اس کا تعلق کسی نہ کسی طور عالمِ بقا کے ساتھ بن جاتا ہے۔
خواہش ذاتی نوعیت کی ہوتی ہے، جبکہ تمنا میں اجتماعی عنصر موجود ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر”میں ترقی کروں”، “مجھے اچھا کھانا چاہیے، اچھی رہائش چاہیے “،” میں چاہتا ہوں کہ میرے بچے تعلیم یافتہ ہو جائیں، خوشحال ہو جائیں” — یہ سب خواہشات کے ابواب ہیں۔ جبکہ ” قوم ترقی کرے” ، “مخلوقِ خدا کو بہتر کھانا ملنا چاہیے ، بہتر چھت ملنی چاہیے” ، میں چاہتا ہوں “قوم کے بچے پڑھ جائیں”— یہ تمنّائیں ہیں۔ اقبالؒ کی طرح ہر دردمند شخص کے دل میں بار بار یہ تمنا پیدا ہوتی ہے: “لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری” ۔ یہ روح سے نکلی ہوئی تمنا ہے کہ زندگی شمع کی صورت ہو جائے اور اُمّت کی شب میں اُجالا ہو جائے—!
خواہش کسی قربانی کی قائل نہیں ہوتی، اسے صرف پورا ہونے سے غرض ہو تا ہے۔ تمنّا قربانی دینا جانتی ہے۔ سچ پوچھیں تو دل میں تمنّا پیدا ہی اس وقت ہوتی ہے جب خواہش خانہِ دل سے رخصت ہو جاتی ہے۔ خواہش کو ہوس بھی کہا جا سکتا ہے۔ اقبالؒ کی بانگِ درا ہے کہ ” ہوس چھپ چھپ کے سینے میں بنا لیتی ہے تصویریں”۔
یہ کائناتی نظام کچھ ایسا ہے کہ یہاں خود غرض تنہا رہ جاتا ہے— اور بےغرض و بے لوث فردِ واحد کے قافلے تیار ہو جاتے ہیں۔ بے غرض ، مخلص لوگ اپنے دل میں تمنا کو اجالتے رہتے ہیں۔ وہ خلقِ خدا کی بہتری اور ان کی رہبری کی تدبیریں سوچتے رہتے ہیں۔وہ دل ِ مسلم میں تمنّا کو زندہ کرنے کی تدبیر کرتے ہیں ۔ وہ بھٹکے ہوئے آہو کو پھر سُوئے حرم لے چلنے کی تمنّا دل میں لیے ہوئے ہوتے ہیں۔
تمنّا روح کی چاپ ہے — د ل کی آواز ہے— اس آواز پر چلنے کا حکم ہے۔ خواہش جسم کا شور ہے، شوریدہ سری ہے، اس سے اعراض کرنے کا حکم ہے۔ تمنّا کو پالنے والا، اپنی فکر کو اجالنے والا کسی مقصدِ حیات کو ضرور دریافت کر لے گا۔ مقصدِ حیات ایسا ہونا چاہیے کہ بعد از حیات بھی قائم رہے۔ اینٹ، مٹی ، بجری اور گارے کوا ٹھانے والی خواہشات راستے میں دم توڑ دیتی ہے۔ یہ دیرپا نہیں ہوتیں— جبکہ انسان دیرپا ہے۔ یوں خواہش اور انسان کا میل جول ایک غیر طبعی ماحول پیدا کر دیتا ہے۔ خواہش عالمِ امکان میں سوچوں کی ایک آوارہ گردی کا نام ہے۔ خواہش بے سمت ہوتی ہے ، تمنّا ہمیشہ قبلہ رو ہوتی ہے۔ خواہش کثرت کی ہوتی ہے ، عالمِ کثرت تک محدود رکھتی ہے۔ تمنّا بالعموم واحد ہوتی ہے، وحدت آشنا کرتی ہے۔ خواہش فنا میں قیام کی ہوتی ہے، تمنّا فنا سے نکلنے کی داستان ہے۔
مقصدِ حیات کا تعین خواہش نہیں، تمنا کہلائے گی۔ زندگی میں کسی مقصد کی دریافت کا تعلق خیر کی دنیا سے ہے۔ خیر کی دنیا سے متعلق جو بھی مقصد ہو، قابلِ توقیر و ستائش ہوتا ہے۔ اس میں اہلِ خیر کا تعاون شاملِ حال ہوتا ہے۔ مقصدِ حیات کی دریافت کے مراحل اگرچہ اس عالمِ رنگ و بو میں طے ہوتے ہیں ، لیکن یہ دریافت اور اس دریافت کا سفر انسان کو نشاطِ رنگ و بو سے رہائی کا امکان مہیا کر دیتا ہے۔ مقصدِ حیات دریافت کرنے کی تمنا سے مراد یہ ہے کہ انسان اس بات کا جائزہ لے کہ اسے کس مقصد کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ کشف المحجوب میں سیّدِ ہجویر ؒ ایک باب میں حضرت ابراہیم ادھمؒ کی سلطانی سے فقیری کے سفر کا حال بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:” پہلے آپؒ ملک ِبلخ کے بادشاہ تھے۔ حق تعالیٰ نے ارادہ کیا کہ ان کو جہان بھر کا بادشاہ بنا دیا جائے، چنانچہ ایک روز آپ اپنے لاؤ و لشکر کے ہمراہ باہر شکار کو نکلے اور ایک ہرن کا تعاقب کرتے ہوئے اپنے لشکر سے جدا ہو گئے۔خدائے بزرگ و برتر نے اپنے کمالِ لطف و کرم سے اس ہرن کو قوتِ گویائی عطا کردی اور وہ ہرن انتہائی فصیح زبان سے آپؒ سے یوں مخاطب ہوا: کیا تمہیں اس کام کے لیے پیدا کیا گیا ہے، یا تمہیں اسی کام کا حکم دیا گیا ہے؟ ہرن کی اس بات نے آپؒ پر ایسی چوٹ لگائی کہ آپؒ نے توبہ کر لی، اپنی دنیاوی بادشاہت سے مکمل طور پر دست بردار ہو گئے اور زہد و ورع (تقویٰ کا ایک اعلیٰ مقام) کا راستہ اپنا لیا“ ۔ قربان جائیں کیا خوب انداز ہے ، یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے آپؒ نے سلطانی کو فقیری کے تابع کردیا۔ گویا خواہش، تمنا کے تابع ہوگئی۔
تمنّا خالص ہو جائے تو بارگاہِ اخلاص میں پہنچ جاتی ہے— اور اخلاص سے توحید دو قدم ہے۔مقصدِ حیات میں سرِ فہرست اُس ذات کو پانا ہے، جس نے ہمیں ذی حیات بنایا ہے۔ اپنے پیدا کرنے والی ذات کی معرفت حاصل کرنا، مقاصدِ حیات میں سب سے اعلیٰ و افضل ہے۔ اگر محرابِ خیال میں یہ مقصد قیام پا گیا تو دنیا ،دین کے تابع ہوگئی— ہر تمنّا ،تابعِ امرِ الٰہی ہو گئی— اور دولت، شہرت اور لذتِ کام و دہن کی لپک سے نجات مل گئی۔
خیال ہمارے وجود کے اندر نصب ایک قطب نما ہے۔ جدھر خیال کا رخ ہوتا ہے ، انسان کا وجود بھی اسی رخ پر سفر کرتا ہے۔ خیالِ حرم، حدودِ حرم تک ضرور پہنچتا ہے۔ مقصدِ حیاتِ خلقِ انسان، اَز رُوئے قرآن، عبادت ہے— اور مقصدِ عبادت قربت الی اللہ ہے— اور قربت تسلیم کے مطابق و متناسب ہے۔ اس بات کا فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ تسلیم کا حاصل معرفت ہے یا معرفت کا نتیجہ تسلیم !
محبّت قرب کی تمنّا ہے۔ یعنی قربت کا تعلق براہ ِ راست محبّت کے ساتھ ہے۔ جب کوئی سالکِ راہ محبّت، محبّتِ الٰہی کی تمنّا دل میں لیے ہوئے حریمِ ناز کے قرب و جوار میں پہنچتا ہے تو اُسے بزبانِ محبوبؐ کہلوا دیا جاتا ہے: ”اگر تم اللہ سے محبّت کرنا چاہتے ہو تو میرے کردار کی اتّباع کرو، اللہ خود تم سے محبت کرےگا“۔ دراصل تمنّا دل کو زندہ رکھنے کا سبب ہے۔ جتنی بڑی تمنّا ہو گی ، اتنی بڑی زندگی ملے گی۔
دل جس سے زندہ ہے وہ تمنّا تمھیؐ تو ہو
ہم جس میں بس رہے ہیں ، وہ دنیا تمھیؐ تو ہو
( روزنامہ “نئی بات” میں ہفتہ وار کالم “عکسِ خیال” بروز بدھ، 26 فروری 2025ء)
wasifcentre@gmail.com